بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قرض پر سخت سزا کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب قرض پر سخت سزا کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2627 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی جان جب تک اس پر قرض ہے معلق رہے گی۔
یعنی: جنت میں داخل نہ ہونے پائے گی یا یہ کہ اس کو آرام نہ ملے گا، لٹکی رہے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عمر بن أبي سلمة ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2633] »
عمر بن ابی سلمہ کی وجہ سے اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1078] ، [ابن ماجه 2413] ، [أبويعلی 5898] ، [ابن حبان 3061] ، [موارد الظمآن 1158]
الحكم: إسناده حسن من أجل عمر بن أبي سلمة ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 2628 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، ثَوْبَانَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ: مِنَ الْكِبْرِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہو اور وہ تین چیزوں سے پاک ہو تو جنت میں جائے گا: تکبر، چوری، اور قرض سے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2634] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1573] ، [ابن ماجه 2412] ، [نسائي فى الكبرىٰ 8764] ، [أحمد 281/5] ، [الحاكم 26/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 2626 سے 2628)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنے والا، خیانت یا چوری کرنے والا، اور قرض دار جنّت میں نہ جائے گا، اور اگر کسی بندے میں یہ تین چیزیں نہ ہوں تو وہ جنّت میں ضرور جائے گا بشرطیکہ شرک میں مبتلا نہ ہوا ہو، کیونکہ شرک ایسا گناہ ہے جو بلا توبہ کبھی معاف نہ ہوگا، اور جس شخص کے اعمال میں کبائر کا ارتکاب ہو وہ جہنم میں اپنی سزا پانے کے بعد ضرور جنّت میں جائے گا، جیسا کہ حدیث میں ہے: «مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيْمَانِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.»
الحكم: إسناده صحيح