بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مال دار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب مال دار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2622 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرض ادا کرنے میں مال دار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور اگر تم میں سے کسی کا قرض کسی مال دار کے حوالے کیا جائے تو وہ اسے قبول کر لے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2622]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي وهو عند مالك في البيوع، [مكتبه الشامله نمبر: 2628] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2287] ، [مسلم 1564] ، [ترمذي 1308] ، [نسائي 4702] ، [ابن ماجه 2403] ، [أبويعلی 6283] ، [ابن حبان 5053] ، [الحميدي 1062]
وضاحت
(تشریح حدیث 2621)
مطلب یہ ہے کہ کسی مال دار نے کسی کا قرض اپنے ذمے لے لیا تو اس کو ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لینا ظلم ہوگا، اس کو چاہیے کہ فوراً ادا کردے، نیز جس کا قرض اس کے حوالے کیا گیا ہے اسے بھی چاہیے کہ اس کو قبول کر کے اس مالدار سے اپنا قرض وصول کر لے، اور اسے حوالہ کرنے سے انکار نہ کرے، ورنہ اس میں وہ خود نقصان اٹھائے گا۔
الحكم: إسناده قوي وهو عند مالك في البيوع