بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قرض اچھی طرح سے ادا کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب قرض اچھی طرح سے ادا کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2620 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "وَزَنَ لَهُمْ دَرَاهِمَ فَأَرْجَحَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو قرض ادا کیا اور زیادہ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2620]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو جزء من حديث طويل متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2626] »
اس روایت کی سند صحیح اور یہ حدیثِ طویل کا ایک جزء ہے جو متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 443، 2097] ، [مسلم 715] ، [أبوداؤد 3347] ، [نسائي 4605] ، [أبويعلی 1793] ، [ابن حبان 4911] ، [الحميدي 1322] ۔ نیز ایک مفصل حدیث اس بارے میں (2601) نمبر پر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2619)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض دار اپنی خوشی سے بغیر شرط کے زیادہ دے تو لے لینے میں کوئی قباحت نہیں، اور قرض اچھی طرح ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اچھا مال ادا کرے، یا کچھ زائد بھی دیدے، اور قرض خواہ کا شکر بھی ادا کرے۔
الحكم: إسناده صحيح وهو جزء من حديث طويل متفق عليه