بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
گروی رکھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب گروی رکھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2618 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ دِرْعَهُ لَمَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب وفات پائی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس 30 صاع جو کے بدلے گروی رکھی ہوئی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2624] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1214] ، [نسائي 4665] ، [ابن ماجه 3239] ، [أحمد 236/1] ، [أبويعلی 2695]
وضاحت
(تشریح حدیث 2617)
رہن کہتے ہیں گروی رکھنے کو، یعنی کوئی چیز کسی کے پاس رکھ کر اس سے قرض لینا اور قرض ادا کرنے کے بعد اپنی چیز واپس لے لینا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جَو خریدی اور اس کے عوض اپنی زرہ رہن رکھ دی، جیسا کہ [بخاري 2200] اور [مسلم 1603] میں ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گروی رکھنا جائز ہے، اور ادھار غلہ لینا بھی جائز ہوا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس قسم کے دنیاوی معاملات غیر مسلموں سے بھی کئے جا سکتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ ادھار لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے یہاں ہر قسم کا کاروبار ہوتا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح