بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب خرید و فروخت کرنے والوں میں اختلاف ہو جائے تو کیا کریں؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب جب خرید و فروخت کرنے والوں میں اختلاف ہو جائے تو کیا کریں؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2585 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هُشَيْمٌ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "الْبَيِّعَانِ إِذَا اخْتَلَفَا وَالْمَبيعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: جب بائع اور مشتری (خریدنے اور فروخت کرنے والے) میں اختلاف ہو جائے اور مبیع (یعنی سامان) بعینہ موجود ہو اور دونوں کے درمیان کوئی دلیل (یا گواہ) نہ ہو تو (صاحبِ مال) بائع کا قول معتبر مانا جائے گا، یا پھر دونوں اس (سودے) کو چھوڑ دیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2591] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3511] ، [نسائي 4662] ، [أبويعلی 4984]
وضاحت
(تشریح احادیث 2583 سے 2585)
قیمت یا سامان کی نوعیت میں بائع اور مشتری کے درمیان جھگڑا ہو جائے اور دونوں میں سے کسی کے پاس واضح دلیل یا گواہ نہ ہو تو بائع کی بات مانی جائے گی، یا پھر یہ سودا دونوں منسوخ کر دیں گے۔
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح