بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ذخیرہ اندوزی کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب ذخیرہ اندوزی کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2579 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيِّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معمر بن عبداللہ بن نافع بن نضلہ عدوی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دومرتبہ فرمایا: خطاء کار کے سوا ذخیرہ اندوزی کوئی نہیں کرتا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن محمد بن إسحاق قد عنعن وهو مدلس. أما الحديث فهو صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2585] »
اس روایت کے رواة ثقات ہیں، صرف محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور ”عن“ سے روایت کیا ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1605] ، [ابن ماجه 2154] ، [ابن حبان 4936] ، [عبدالرزاق 14889] ، [ابن قانع فى معجم الصحابة رقم 1065]
وضاحت
(تشریح حدیث 2578)
«لَا يَحْتَكَر:» احتکار سے ماخوذ ہے، یعنی غلے کو روک لینا، فروخت نہ کرنا، اس انتظار میں کہ بھاؤ چڑھے تب بیچیں گے اور عوام کو اس کی شدید ضرورت ہو، فروخت کرنے والا اس سے مستغنیٰ ہو، اور «خَاطِءٌ» سے مراد نافرمان، گناہ گار، خطار کار ہے۔
اس حدیث میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے، وہ اس طرح سے کہ ایک آدمی کوئی چیز خرید کر لے کہ جب نرخ بڑھیں گے تو اس وقت اسے فروخت کروں گا، حالانکہ عوام میں اس کی بہت مانگ ہو۔
حدیث کے الفاظ عام ہیں مگر جمہور نے اس سے مراد صرف انسانوں اور حیوانوں کے خورد و نوش کی چیزیں لی ہیں، دوسری اشیاء اس نہی سے مستثنیٰ ہیں۔
احتکار ایسی شکل میں بلاشبہ حرام ہے کہ روز مرہ کی استعمال کی قلت پیدا ہو جائے، اور جن کے پاس یہ چیزیں ہوں وہ انہیں چھپا کر رکھ لیں، احتکار تجارت پیشہ حضرات کے لئے حرام ہے۔
زمیندار اپنی پیداوار کو روک لے تو اس کے لئے گنجائش ہے مگر جب غلے کی قلت شدت اختیار کر جائے تو پھر اس کے لئے بھی غلہ کو روک لینا جائز نہ ہوگا۔
الحكم: رجاله ثقات غير أن محمد بن إسحاق قد عنعن وهو مدلس. أما الحديث فهو صحيح
حدیث نمبر: 2580 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، إِسْرَائِيلَ ، عَلِيِّ بْنِ سَالِمٍ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ، وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: باہر سے مال لانے والا روزی دیا جائے گا اور ذخیرہ کر کے رکھنے والے پر لعنت کی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2580]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2586] »
اس حدیث کی سند علی بن زید بن جدعان کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2153] ، [عبد بن حميد 33] ، [البيهقي 30/6] ، [الحاكم 11/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 2579)
ذخیرہ اندوزی کرنے کی ممانعت اور بھی دیگر کئی احادیثِ صحیحہ میں آئی ہے، اور مذکورہ بالا حدیث میں احتکار کرنے والے پرلعنت ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: جو احتکار حرام ہے وہ غلہ و اناج کا احتکار ہے ان شروط کے ساتھ جو اوپر ذکر کی گئی ہیں، یعنی غلہ کی قلت ہو یا ملتا ہی نہ ہو اور لوگوں کو اس کی ضرورت ہو، اور پھر بند کر کے رکھے کہ اور گرانی ہو جائے گی تب بیچیں گے تو یہ حرام ہے، کیونکہ اپنے ذرا سے فائدے کے لئے لوگوں کو تکلیف و ایذا دیتا ہے، اور لوگوں کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف