بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
چوپائے نقصان کر دیں تو اس کا کوئی تاوان نہیں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دیت کے مسائل چوپائے نقصان کر دیں تو اس کا کوئی تاوان نہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2414 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا الْجُبَارُ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں، اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2414]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن. ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2422] »
اس روایت کی سند حسن ہے لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6912] ، [مسلم 1440] ، [أبوداؤد 3085] ، [ترمذي 1377] ، [نسائي 2941] ، [ابن ماجه 2509، مختصرًا الركاز فقط] ، [الحميدي 1110]
الحكم: إسناده حسن. ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 2415 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی ویسے ہی مروی ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2423] »
ترجمہ و تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
الحكم: إسناده قوي والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 2416 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی ویسے ہی مروی ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2424] »
ترجمہ و تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2413 سے 2416)
«عُجْمَاء» اور «سَائِمَة» سے مراد جانور چوپائے، اور «جُبَارٌ» ضمان و تاوان کو کہتے ہیں، اور «مَعْدَنِ» اس جگہ یا کان کو کہتے ہیں جہاں سونا چاندی اور جواہرات پائے جائیں، اور «رِكَاز» وہ خزانہ اور دفینہ ہے جو پرانے زمانے میں کسی نے دفن کیا ہو اور اس کے مالک موجود نہ ہوں۔
ایسے دفینے کو جو شخص پائے گا اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کرے گا، باقی سب پانے والے کا ہوگا۔
اسی طرح کسی آدمی کے کنویں میں گر کر کوئی شخص ہلاک ہو جائے تو صاحبِ کنواں پر تاوان و دیت نہیں، اور کان کنوں میں سے کوئی کان گرنے سے مر جائے تو اس میں بھی کوئی تاوان نہیں، دفینے میں پانچواں حصہ بیت المال کا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح