بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دانتوں کی دیت
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دیت کے مسائل دانتوں کی دیت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2411 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَةُ ، سَعِيدٍ ، مَطَرٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:"قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَسْنَانِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن شعیب نے اپنے باپ پھر اپنے دادا سے روایت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دانتوں میں پانچ پانچ اونٹ کی دیت کا فیصلہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2419] »
اس روایت کی سند حسن ہے مطر الوراق کی وجہ سے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [أبوداؤد 4563] ، [نسائي 4856] ، [ابن ماجه 2651] ، [ابن أبى شيبه 7014]
وضاحت
(تشریح حدیث 2410)
یعنی ہر دانت کے بدلے پانچ اونٹ، آگے کے دانت ہوں یا پیچھے کی داڑھیں، سب میں پانچ پانچ اونٹ دیت ہے۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2412 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ: "وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبکر بن محمد عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ یمن کے لئے تحریر فرمایا: اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2420] »
ابن حزم کی یہ لمبی حدیث ہے اور اس کے جملے امام دارمی رحمہ اللہ نے الگ الگ ذکر کئے ہیں۔ تخریج پیچھے کئی بار گزر چکی ہے۔ سنداً یہ ضعیف ہے، لیکن کئی طرق سے مروی ہے جن سے تقویت ہو جاتی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف