بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باپ اور بیٹے کے درمیان قصاص کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دیت کے مسائل باپ اور بیٹے کے درمیان قصاص کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2394 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَونٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَونٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُقَادُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسجد کے اندر حدیں (سزائیں) نہ قائم کی جائیں اور نہ کوئی باپ بیٹے کے بدلے میں مارا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل إسماعيل بن مسلم المكي، [مكتبه الشامله نمبر: 2402] »
اس روایت کی سند اسماعیل بن مسلم مکی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1401] ، [ابن ماجه 2599] ، [ابن أبى شيبه 8700] ، [حلية الأولياء 18/4] ، [مجمع الزوائد 2075] ۔ یہ حدیث شواہد کے پیشِ نظر ضعیف ہونے کے باوجود قابلِ عمل ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی باپ اپنے بیٹے کو مار ڈالے تو وہ اس کے عوض قتل نہیں کیا جائے، اور جو اپنے بیٹے کو زنا کی تہمت لگائے تو باپ کو حدِ قذف بھی نہ ماری جائے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2393)
اس حدیث میں دو مسئلے بیان کئے گئے: پہلا تو یہ کہ باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ مساجد کے اندر حد کی سزائیں نافذ نہ کی جائیں، کیونکہ اس سے مسجد میں چیخ و پکار ہوگی، اور خون وغیرہ سے مسجد کے نجس ہونے کا بھی اندیشہ ہے، اور مسجد صرف نماز، تلاوت، عبادت، علم اور فیصلے کیلئے ہے۔
مار پیٹ و سزا دینا، مسجد میں مناسب نہیں، اسی لئے امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب اور امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسجد سے باہر حدود نافذ کرتے تھے۔
آج تک بلاد الحرمین میں یہی ہوتا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف من أجل إسماعيل بن مسلم المكي