بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اللہ تعالیٰ کے جس نام سے بھی قسم کھائی جائے وہ لازم ہو جائے گی
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نذر اور قسم کے مسائل اللہ تعالیٰ کے جس نام سے بھی قسم کھائی جائے وہ لازم ہو جائے گی
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2387 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا "لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم اس طرح ہوتی تھی: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوْبِ» نہیں دلوں کے پھیرنے والے کی قسم «وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري في القدر، [مكتبه الشامله نمبر: 2395] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6617] ، [أبوداؤد 3763] ، [ترمذي 1540] ، [نسائي 3770] ، [أبويعلی 5442] ، [ابن حبان 4332] ۔ بعض نسخوں میں «وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» مذکور نہیں ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2386)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قسم کھانے کا انداز و طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے جو گفتگو یا بات ہو رہی ہوتی تھی، اگر درست نہ ہوتی تو پہلے حرف «لا» سے اس کی تردید فرماتے، پھر اللہ کے صفاتی نام سے قسم کھاتے، «مقلب القلوب» دلوں کے پھیرنے والا یہ اللہ کا صفاتی نام ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ کے اسمِ ذاتی سے قسم ہوتی ہے اس طرح اسماءِ صفاتیہ سے بھی قسم کھانا جائز ہے، خواہ اس صفت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہو، جیسے علم و قدرت وغیرہ یا صفتِ فعلی ہو جیسے قہر اور غلبہ وغیرہ۔
الحكم: إسناده صحيح وأخرجه البخاري في القدر