بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آدمی کے ذمے گردن آزاد کرنا ہو اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نذر اور قسم کے مسائل آدمی کے ذمے گردن آزاد کرنا ہو اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2385 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، الشَّرِيدِ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَلَى أُمِّي رَقَبَةً، وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً سَوْدَاءَ نُوبِيَّةً، أَفَتُجْزِئُ عَنْهَا؟. قَالَ:"ادْعُ بِهَا"، فَقَالَ: "أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:"أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ (صاحبہ) کے ذمے ایک گردن آزاد کرنے کا کفارہ ہے اور میرے پاس ایک کالی حبشی لونڈی ہے، کیا وہ کافی ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو بلا کر لاؤ، جب وہ آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم «لا إله إلا اللّٰھ» کی گواہی دیتی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، فرمایا: جاؤ اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے۔ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2385]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو، [مكتبه الشامله نمبر: 2393] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 189] ، [موارد الظمآن 1207]
وضاحت
(تشریح حدیث 2384)
قسم کے کفارہ میں ایک گردن آزاد کرنے کا حکم ہے اور غلام ہو یا لونڈی، اسی طرح قتلِ خطا میں بھی دیت کے ساتھ ایک گردن آزاد کرنے کا حکم ہے، اور وہاں رقبہ مومنہ کی قید لگائی گئی ہے (سورۂ النساء 92)، یہاں اس حدیث میں بھی رقبہ مومنہ کو آزاد کرنے کا حکم ہے، نیز حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد عورت کے بدلے، یا عورت مرد کے بدلے اگر مسلمان ہیں تو آزاد کئے جا سکتے ہیں۔
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو