بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قسم کا لفظ یمین میں داخل ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نذر اور قسم کے مسائل قسم کا لفظ یمین میں داخل ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2381 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:"لَا تُقْسِمْ". قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَدِيثُ فِيهِ طُولٌ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: قسم مت کھاؤ۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ لمبی حدیث ہے۔
اس کا ذکر حدیث نمبر (2193) پر گذر چکا ہے۔ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2381]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2389] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 7046] ، [مسلم 2269] ، [أبوداؤد 3267] ، [ابن ماجه 3918، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2380)
قسم کا ایک تو یہ طریقہ ہے: کوئی کہے: واللہ تم نے ایسا کہا، یا تاللہ، اور برب الکعبہ، یہ اور اس طرح کے دیگر الفاظ ہیں، ان میں قسم کا لفظ نہیں ہے لیکن پھر بھی قسم منعقد ہو جاتی ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوئی کہے: «أقسمت باللّٰه» یا جیسے قرآن پاک میں ہے: «﴿لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ﴾ وغيرها» یعنی کوئی یوں کہے: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ...... تو اس طرح بھی قسم منعقد ہو جائے گی اور قسم کھانے والے کو پوری کرنی ہوگی، یا پھر کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
مذکورہ بالا حدیث پیچھے گذر چکی ہے لیکن امام دارمی رحمہ اللہ نے قسم کا لفظ اس میں ذکر نہیں کیا ہے، بخاری وغیرہ میں ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خواب کی تعبیر بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کچھ تم نے صحیح بتایا اور کچھ غلط ہے، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: «أقسمت عليك يا رسول اللّٰه .....» اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں، میں نے کیا غلطی کی۔
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «لا تقسم» قسم مت کھاؤ۔
یہی محل شاہد ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ قسم کا لفظ استعمال کرنے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه