بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو شخص بیت المقدس میں نماز کی نذر مانے کیا بیت اللہ میں اس کا نماز پڑھنا کافی ہو گا؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نذر اور قسم کے مسائل جو شخص بیت المقدس میں نماز کی نذر مانے کیا بیت اللہ میں اس کا نماز پڑھنا کافی ہو گا؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2376 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي بَقِيَّةَ الْمُعَلِّمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي بَقِيَّةَ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ: "صَلِّ هَاهُنَا". فَأَعَادَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"شَأْنُكَ إِذَنْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر الله تعالیٰ آپ کو مکہ کی فتح نصیب کرے تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہیں (کعبہ میں) نماز پڑھ لو۔ اس نے تین بار اپنے سوال کو دہرایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری مرضی ہے (یعنی تم کو اختیار ہے کہ بیت المقدس جا کر وہاں نماز پڑھو اور اپنی نذر کو پورا کرو)۔ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2384] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3305] ، [أبويعلی 2116] ، [ابن الجارود 945] ، [الحاكم 304/4] ، [البيهقي فى المعرفة 19707]
وضاحت
(تشریح حدیث 2375)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھنے کی کوئی منّت یا نذر مانے تو وہ بیت اللہ شریف میں نماز پڑھ لے، اس کی منّت و نذر پوری ہو جائے گی، کیونکہ بیت اللہ الحرام بیت المقدس سے افضل ہے اور بیت اللہ میں نماز کا ثواب بیت المقدس میں نماز سے بہت زیادہ ہے، اس شخص نے جب بار بار اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لئے خود تکلیف چاہتے ہو تو جا ؤ وہیں جا کر نذر پوری کرو اور بیت المقدس میں نماز پڑھو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: «اَلدِّيْنُ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَّادَّ الدِّيْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ.» یعنی: دین آسان ہے اور جو کوئی بھی دین میں (اپنے لئے) سختی کرے گا تو دین ہی غالب آئے گا۔
الحكم: إسناده صحيح