بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی طلاق کے مسائل بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2306 سنن دارمی
يَعْلَى ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ، فَقَالَتْ: "قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے طلاق کا اختیار دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اختیار دیا تھا تو کیا محض یہ اختیار طلاق بن گیا؟ [سنن دارمي/من كتاب الطلاق/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2315] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5262] ، [مسلم 1477] ، [ترمذي 1179] ، [نسائي 3203] ، [أبويعلی 4317] ، [ابن حبان 4267] ، [الحميدي 236]
وضاحت
(تشریح حدیث 2305)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو اختیار ہے کہ چاہو تو میرے ساتھ رہو اور چاہو تو اپنے میکے چلی جاؤ، تو اگر وہ شوہر کے ساتھ رہ جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
اس کی تفصیل سورۂ احزاب کی آیت: «﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا .....﴾ [الأحزاب: 28] » کے ضمن میں دیکھی جا سکتی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه