بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بنا نکاح کر لے اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بنا نکاح کر لے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2270 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرًا
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ أَوْ أَهْلِهِ، فَهُوَ عَاهِرٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ زانی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2270]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2279] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2078] ، [ترمذي 1112] ، [أحمد 301/3] ، [ابن الجارود 686] ، [مشكل الآثار للطحاوي 297/3، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2269)
یعنی اس کا نکاح درست نہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امام احمد و امام اسحاق رحمہما اللہ وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2271 سنن دارمی
مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبة ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبة، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَهُوَ زَانٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو غلام اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے وہ زنا کار ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2271]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «هذا اسناد فيه علتان: ضعف مندل بن علي من طريق أحمد بن محمد بن الزحاف بن أبي الزحاف عن أبيه عن جده الزحاف عن ابن جريج به. وأحمد بن محمد وجده الزحاف ما وقعت لهما على ترجمة ومحمد بن الزحاف حدث بمناكير، [مكتبه الشامله نمبر: 2280] »
یہ حدیث مندل بن علی اور ابن جریج کے عنعنہ کے سبب ضعیف ہے لیکن اس کا شاہد بسند حسن اوپر گذر چکا ہے۔ حوالہ دیکھئے: [ابن ماجه 1960] ، [أبوداؤد 2079] ، [مسند ابن عمر طرطوسي 93] ، [البيهقي 127/7]
وضاحت
(تشریح حدیث 2270)
امام شافعی و امام احمد رحمہما اللہ کا مذہب یہی ہے کہ ایسا نکاح باطل ہوگا، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: نکاح صحیح ہوگا لیکن سید و مالک کی مرضی پر موقوف ہوگا، اجازت دے دے تو نافذ ہوگا۔
واللہ اعلم۔
الحكم: هذا اسناد فيه علتان: ضعف مندل بن علي من طريق أحمد بن محمد بن الزحاف بن أبي الزحاف عن أبيه عن جده الزحاف عن ابن جريج به. وأحمد بن محمد وجده الزحاف ما وقعت لهما على ترجمة ومحمد بن الزحاف حدث ب