بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آدمی کی کئی بیویاں ہوں تو کس کے ساتھ سفر کرے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل آدمی کی کئی بیویاں ہوں تو کس کے ساتھ سفر کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2245 سنن دارمی
إِسْمَاعِيل ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا، خَرَجَ بِهَا مَعَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کا قرعہ ڈالتے تھے اور جس کے نام کا قرعہ نكلتا اسی کو ساتھ لے کر سفر پر نکلتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2254] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2593، 5211] ، [مسلم 2770] ، [أبوداؤد 2138] ، [ابن ماجه 1970] ، [أبويعلی 4397] ، [ابن حبان 4212]
وضاحت
(تشریح حدیث 2244)
جس عورت کا قرعہ نکلتا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف اسی کو سفر میں اپنے ہمراہ لے جاتے اور باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے، یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کمالِ انصاف تھا، ورنہ علمائے کرام نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تقسیم واجب نہ تھی اور الله تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اختیار دے دیا تھا جس عورت کے پاس چاہیں رہیں، فرمایا: «﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ .....﴾ [الأحزاب: 51] » ترجمہ: ان میں سے جس کو آپ چاہیں علیحدہ کر دیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه