بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2207 سنن دارمی
صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ: لِلدِّينِ، وَالْجَمَالِ، وَالْمَالِ، وَالْحَسَبِ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاك".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جا تا ہے: دین، خوبصورتی، مال اور حسب نسب کی وجہ سے، اور تم دیندار عورت سے شادی کرو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی اگر ایسا نہیں کیا تو تمہارے ہاتھوں کو مٹی لگے گی اور اخیر میں تم کو ندامت ہو گی)۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2216] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5090] ، [مسلم 1466] ، [أبوداؤد 2047] ، [نسائي 3230] ، [أبويعلی 6578] ، [ابن حبان 4036]
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 2208 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2217] »
ترجمہ و تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2206 سے 2208)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عموماً لوگوں کی عادت یہ ہے کہ مال و جمال حسب نسب کے طالب ہوتے ہیں سو دیندار کو لازم ہے کہ ان سب خصلتوں پر دین کو مقدم جانے تاکہ نیک صحبت حاصل ہو اور نیکی کی برکت سے الله تعالیٰ اس کو حسنِ خلق اور حسنِ معاشرت بھی عنایت کرے گا اور نیکی کے سبب دینی و دنیوی فتنوں سے محفوظ رہے گا۔
«تَرِبَتْ يَدَاكَ» تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، یہ بد دعا نہیں ایک جملہ ہے جو عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے، اور کسی چیز پر ابھارنا اس سے مقصود ہوتا ہے، اسی طرح «لَا أُمَّ لَهُ، لَا أَبَالَكْ، وَيْلٌ لِأُمِّهِ» وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو محاورةً استعمال ہوتے ہیں اور جن کا معنی مراد نہیں ہوتا۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه