بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
خواب کی تعبیر عالم یا ناصح کے علاوہ کسی اور سے پوچھنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب خوابوں کے بیان میں خواب کی تعبیر عالم یا ناصح کے علاوہ کسی اور سے پوچھنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2184 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "لَا تَقُصُّوا الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ، أَوْ نَاصِحٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہ بیان کرو خواب کو مگر عالم اور خیر خواہ سے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرويا/حدیث: 2184]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2193] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2281، وغيره] ، ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2183)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنا خواب جاہل، بے وقوف، نادان اور عداوت رکھنے والے سے نہ کہنا چاہیے۔
[ترمذي 2280] میں ہے کہ انسان کا خواب مانند پرندے کے ہے جب تک اس کی تعبیر نہ پوچھے، اور جب کوئی اس خواب کو بیان کر دے تو جیسی تعبیر کی جائے ویسا ہی وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا جب تک خواب بیان نہ کیا جائے وہ واقع نہیں ہوتا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح