بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب خوابوں کے بیان میں کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2178 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنْ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَخَافُهُ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے، پس اگر کوئی برا خواب دیکھے جس سے اسے خوف آتا ہو تو وہ اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے، وہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الرويا/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2187] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6968] ، [مسلم 2261] ، [أبوداؤد 5021] ، [ابن حبان 6059] ، [الحميدي 423]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2179 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِأَبِي قَتَادَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: وَأَنَا إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ، فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُه، فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھ کو بیمار کر ڈالتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: میں بھی ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اس پر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور اسی کو وہ خواب بتائے جس سے وہ محبت کرتا ہے، اور اگر ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اپنے بائیں پہلو پر تین بار تھوتھو کر لے اور اس کے شر سے حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے (یعنی «أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّهَا» کہے) اور اس خواب کو کسی سے بھی بیان نہ کرے، وہ خواب ہرگز اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الرويا/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2188] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5747، 6995] ، [مسلم 2261، وغيرهما و تقدم تخريجه]
وضاحت
(تشریح احادیث 2177 سے 2179)
ہر انسان مختلف اسباب کے تحت اچھے برے ہر قسم کے خواب دیکھتا ہے۔
حدیثِ صحیح کے مطابق اچھے خواب پر الله تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر کوئی برا اور ڈراؤنا خواب دیکھے تو کروٹ بدل لے، بائیں طرف تین بار تھو تھو کرے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے، یعنی «أَعُوْدُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ» يا «أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّهَا» کہے۔
ابوداؤد اور ترمذی میں ڈراؤنے خواب اور گھبراہٹ و پریشانی کے وقت یہ پڑھے: «أَعُوْذُ بِكَلِمَاتَ اللّٰهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِيْنِ وَأَنْ يَحْضُرُوْنِ.» (ترجمہ: میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ پکڑتا ہوں، اس کے غصہ اور اس کی سزا سے، اور اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطانوں کے چوکوں سے، اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔
) یا نماز پڑھنے لگ جائے اور اطمینان رکھے وہ خواب اسے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے گا، اور برے خواب کو کسی سے بھی بیان نہ کرے، ہو سکتا ہے تعبیر بتانے والا نادان ہو اور اسے زیادہ پریشانی میں مبتلا کر دے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح