مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے حق (سچ) د یکھا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرويا/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2186] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6996] ، [مسلم 2267] ، [أبوداؤد 5023] ، [أحمد 306/5]
وضاحت
(تشریح احادیث 2175 سے 2177)
خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کا ہو جانا بڑی خوش نصیبی ہے، اور یہ سعادت اچھے نیک متقی لوگوں کو ہی نصیب ہوتی ہے، اور جس نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حلیہ وصورت میں دیکھا جیسا کہ کتابوں میں مرقوم ہے تو اس کا خواب سچا ہے، اور اس نے بیشک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، کیونکہ شیطان کی یہ طاقت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شکل اختیار کرے، نیز یہ کہ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنے سے کوئی آدمی صحابی نہیں کہلائے گا۔
علمائے کرام نے کہا: اور خواب میں اگر کوئی خلافِ شرع حکم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا وہ بھی حجت اور قابلِ قبول نہ ہوگا، اور اس کو بلاشبہ خواب دیکھنے والے کا وہم و دھوکہ کہا اور سمجھا جائے گا۔
(ملخص من وحیدی)۔
الحكم: إسناده صحيح