بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
برتن کو ڈھانپ کر رکھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان برتن کو ڈھانپ کر رکھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2168 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ ، أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ، فَقَالَ: "أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرِضُ عَلَيْهِ عُودًا؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ لے کر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اس (برتن) کو ڈھانپ کر کیوں نہیں لائے؟ اس کے اوپر عرض میں ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2177] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5606] ، [مسلم 2010] ، [ابن حبان 1270]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2169 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ، وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی ڈھکنے، اور مشک کو ڈاٹ لگا دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2169]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2178] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 3411] ، [أحمد 367/2] ، [ابن خزيمه 128] ، [ابن حبان 1272] ۔ نیز اس حدیث کا شاہد صحیحین میں بھی ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3380] ، [مسلم 2012]
وضاحت
(تشریح احادیث 2167 سے 2169)
ان احادیث سے پانی کے برتن کو ڈھانپ کر رکھنے، اور مشک کو ڈاٹ لگا کر رکھنے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم معلوم ہوا، اس کے بہت سے فوائد ہیں: کوڑے کرکٹ، حشرات و کیڑے مکوڑوں سے، نیز آسمانی وباء و بلا سے حفاظت ہو جاتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ دروازے بند رکھو، چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان نہ بند دروازہ کھولتا ہے، نہ ڈھکے ہوئے برتن کو کھولتا ہے، اور اگر ڈھکنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو الله کا نام لے کر اس پر لکڑی کو آڑا کر کے رکھ دے، یہ سب اسلامی آداب ہیں جو باعثِ خیر و برکت ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح