بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نہر پر منہ لگا کر پانی پینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان نہر پر منہ لگا کر پانی پینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2160 سنن دارمی
إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُهُ، وَجَدْوَلٌ يَجْرِي، فَقَالَ: "إِنْ كَانَ عِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي الشَّنِّ، وَإِلَّا كَرَعْنَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک انصاری صحابی کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور باغ کی نہر جاری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشک میں رات کا پانی ہو تو لاؤ ورنہ ہم نہر سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2169] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5613، 5621] ، [أبويعلی 2097] ، [ابن حبان 5314، 5389]
وضاحت
(تشریح حدیث 2159)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر یا حوض میں منہ لگا کر پانی پینا درست ہے۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ اس انصاری صحابی کے پاس مشک میں پانی موجود تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا پانی پیا کیونکہ وہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔
اس حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لئے جانا، تواضع اور حسنِ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔
الحكم: إسناده جيد