بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
انگور کو کرم کہنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان انگور کو کرم کہنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2151 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَقُولُوا: الْكَرْمَ، وَقُولُوا: الْعِنَبَ أَوْ الْحَبَلَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انگور کو کرم مت کہو بلکہ عنب یا حبلہ کہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2160] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2248] ، [أبويعلی 5929] ، [ابن حبان 5832] ، [الحميدي 1130]
وضاحت
(تشریح حدیث 2150)
عرب کے لوگ انگور اور انگوری شراب کو کرم کہتے تھے، کرم کے معانی بزرگی، عزت اور مہربانی کے ہیں، وہ سمجھتے تھے کہ انگوری شراب کے پینے سے بھی انسان میں کرم پیدا ہوتا ہے، جب شراب حرام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگور کا نام بدلنے کی ممانعت کر دی اس خیال سے کہ یہ نام شراب کی یاد نہ دلا دے، دوسرے یہ کہ شراب کی عزت نہ کی جاوے، مسلم شریف کی صحیح روایت میں ہے کہ کرم تو مومن کا دل ہے۔
(وحیدی)۔
الحكم: إسناده جيد