بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سے برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سے برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2144 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:"كَانَ يُنْتَبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السِّقَاءِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے مشک میں نبیذ بنائی جاتی تھی، اگر مشک (مشکیزہ) نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے پتھر کی ہانڈی یا پیالوں میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2153] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1999] ، [أبوداؤد 3702] ، [نسائي 5629] ، [ابن ماجه 3400] ، [أبويعلی 1769] ، [ابن حبان 5387] ، [مسند الحميدي 1320]
وضاحت
(تشریح حدیث 2143)
نبیذ ایک طرح کا شربت ہے جو کھجور کو بھگو کر بنایا جا تا ہے، رات کو کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دی جاتی اور صبح کو نچوڑ کر پی جاتی تھیں، یہ شربت بہت ہی لذیذ اور مغذی و مقوی ہوتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو پیتے تھے، لیکن اگر یہ نبیذ شراب کے برتن میں بنائی جائے اور دھوپ میں رہے، یا کچھ دن برتن میں پڑا رہنے دیا جائے تو اس میں نشہ ہو جاتا ہے، اس صورت میں نبیذ پینا حرام ہے جب کہ اس میں ابال آنے لگے اور نشہ پیدا ہو جائے۔
ایک حدیث ہے کہ نبیذ میں جوش آجائے تو اسے پتھر پر مار دو، اس کو وہ پئے گا جس کا اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان نہ ہوگا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کھجور کا شربت پینا جائز ہے بشرطیکہ اس میں نشہ نہ پیدا ہوا ہو، اور یہ نبیذ کسی بھی برتن میں بنائی جا سکتی ہے، چاہے وہ برتن مٹی، پتھر، تانبے وغیرہ کا بنا ہوا ہو۔
الحكم: إسناده صحيح