بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو شراب پئے اس کے لئے وعید شدید کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان جو شراب پئے اس کے لئے وعید شدید کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2143 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زانی مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کر سکتا، چوری کرنے والا مومن رہتے ہوئے چوری نہیں کر سکتا، اور نہ شراب پیتے ہوئے جب وہ شراب پیتا ہے مومن رہتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2143]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 2152] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2475] ، [مسلم 57] ، [أبوداؤد 4689] ، [نسائي 4886] ، [مسند أبى يعلی 6299] ، [ابن حبان 186] ، [الحميدي 1162]
وضاحت
(تشریح حدیث 2142)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا گناہوں کے ارتکاب کے وقت آدمی مومن نہیں رہتا ہے، ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے، لہٰذا زنا کار، چوری کرنے اور شراب پینے والا اگر مدعیٔ اسلام ہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہوگا، مسلمان صاحبِ ایمان ایسا کام کر ہی نہیں سکتا، بلکہ اگر کبھی اس سے گناہِ کبیرہ سرزد ہو بھی جائے تو حد درجہ پشیماں ہو کر پھر ہمیشہ کے لئے تائب ہو جاتا ہے اور اپنے گناہ کے لئے استغفار میں منہمک رہتا ہے۔