يَعْلَى ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدِيقٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ، فَلَقِيَهُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِيَةٍ مِنْ خَمْرٍ يُهْدِيهَا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا فُلَانُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا؟"قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَبِعْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بِمَاذَا أَمَرْتَهُ يَا فُلَانُ؟"قَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا، حَرَّمَ بَيْعَهَا". فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ فِي الْبَطْحَاءِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن وعلہ نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ثقیف یا دوس قبیلہ کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوست تھا، اس نے فتح مکہ کے سال میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مکہ میں ملاقات کی اور تحفے میں شراب کا مشکیزہ پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے بھائی! تمہیں علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کر دیا ہے؟“ راوی نے کہا: وہ شخص اپنے خادم کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے کہا: اسے لے جا کر بیچ دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو کیا حکم دیا ہے؟“ عرض کیا: میں نے خادم کو اس شراب کو بیچ دینے کو کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس اللہ نے شراب پینا حرام کیا ہے اس نے بیچنا بھی حرام کر دیا ہے۔“ چنانچہ اس شخص نے حکم دیا اور وہ شراب زمین پر لڑھکا دی گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق قد عنعن ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2148] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1579] ، [نسائي 4678] ، [أبويعلی 2468] ، [ابن حبان 4944]
الحكم: رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق قد عنعن ولكن الحديث صحيح