بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
شراب میں کوئی شفاء و علاج نہیں ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان شراب میں کوئی شفاء و علاج نہیں ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2132 سنن دارمی
سُهَلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٌ ، عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، وَائِلٍ
أَخْبَرَنَا سُهَلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ عَنْهَا أَنْ يَصْنَعَهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا دَوَاءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهَا لَيْسَتْ دَوَاءً وَلَكِنَّهَا دَاءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
وائل سے مروی ہے کہ سیدنا سوید بن طارق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شراب (بنانے) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں شراب بنانے سے منع فرمایا، سیدنا سوید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ دوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2140] »
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1984] ، [ترمذي 2046] ، [ابن حبان 1389] ، [موارد الظمآن 1377]
وضاحت
(تشریح حدیث 2131)
شراب اور ہر نشہ آور چیز کا استعمال، بنانا، بیچنا سب حرام ہے کیونکہ یہ اُم الخبائث اور بہت سے امراض و اعراض کی جڑ ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان برحق، سچا و صحیح ہے۔
یہ دوا نہیں بلکہ بیماری اور مرض ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے کسی حرام چیز میں شفا رکھی ہی نہیں ہے۔
دوا، علاج اور شفاء الله تعالیٰ نے بہت ساری چیزوں میں ودیعت فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو شراب کی لت سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
دورِ حاضر میں مادہ حافظہ کے طور پر اکثر ادویہ میں الکحل ہوتا ہے، اس سے بھی پرہیز بہتر ہے، مجبوری کی صورت میں استعمال ممکن ہے۔
علماء کرام نے کہا ہے: کیونکہ الکحل کی دوا میں ماہیت بدل جاتی ہے اس لئے جس دوا سے نشہ نہ آئے وہ استعمال کی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده قوي