بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنبی کے کھانا کھانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب جنبی کے کھانا کھانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2115 سنن دارمی
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ، تَوَضَّأَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو فرما لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2123] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 286] ، [مسلم 305] ، [أبوداؤد 224] ، [نسائي 255] ، [ابن ماجه 591] ، [أبويعلی 4522] ، [ابن حبان 1217]
وضاحت
(تشریح احادیث 2113 سے 2115)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالتِ جنابت میں غسل کرنے سے پہلے سونا جائز و درست ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دونوں طرح ثابت ہے، کبھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کر لیتے تب آرام فرماتے اور کبھی صرف وضو پر اکتفا کرتے اور سو جاتے تھے۔
مسلم شریف میں متعدد روایاتِ قولیہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ حالتِ جنابت میں کوئی سو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں سو سکتا ہے جبکہ اعضاء کو دھو لے اور وضو کرلے۔

امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: ان تمام احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ جنبی کا کھانا، پینا، سونا درست ہے، اس پر سب کا اجماع ہے۔
ان حدیثوں کی رو سے مستحب یہ ہے کہ کھانا، پینا یا دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کر لے اور شرمگاہ کو دھو لے۔
اگر ایسا نہ کیا تو مکروہ ہے، اور بعض کے نزدیک وضو کرنا واجب ہے۔
ان احادیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ جنابت کا غسل فی الفور واجب نہیں بلکہ جب نماز کے لئے اٹھے اس وقت واجب ہے۔
(انتہیٰ باختصار ... وحیدی)۔
الحكم: إسناده صحيح