فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میٹھی چیز (حلوہ وغیرہ) اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2119] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4912، 5431] ، [مسلم 1474] ، [أبوداؤد 3715] ، [ترمذي 1831] ، [ابن ماجه 3323] ، [أبويعلی 4741]
وضاحت
(تشریح احادیث 2110 سے 2112)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میٹھا اور شہد یقیناً پسند تھا جس طرح دستانے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پسند فرماتے تھے، اور جب مل جاتا تو تناول فرماتے نہ ملتا تو کسی پر بوجھ نہ ڈالتے تھے، کبھی کوئی چیز طلب بھی کی تو حصولِ برکت اور فائدہ پہنچانے کے لئے طلب کی۔
اب کچھ لوگ حلوہ میٹھائی وغیرہ کھانا تو پسند کرتے اور دیگر سنّتوں کو پاؤں تلے روندتے ہیں، معلوم ہونا چاہیے کہ صرف حلوہ میٹھائی کھانا ہی سنّت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کو اپنانا بھی ضروری ہے۔
الحكم: إسناده صحيح