بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دو کھجور ایک ساتھ کھانے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب دو کھجور ایک ساتھ کھانے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2096 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، ابْنُ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُ التَّمْرَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَيَقُولُ: لَا تُقَارِنُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ الْقِرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
جبلہ بن سحیم نے کہا: ہم مدینہ میں تھے کہ ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا (اس وقت) سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ ہمیں (راشن کے طور پر) کھجوریں دیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرتے تو فرماتے تھے: دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے سوائے اس صورت کے کہ ساتھ کھانے والے سے اجازت لے لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2096]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2103] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2455، 5446] ، [مسلم 2045] ، [أبوداؤد 3834] ، [ترمذي 1814] ، [ابن ماجه 3331] ، [أبويعلی 5736]
وضاحت
(تشریح حدیث 2095)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک ساتھ دو کھجور کھانا منع ہے اور یہ ممانعت اس وقت ہے جب دوسرے بھی ساتھ کھا رہے ہوں، کیونکہ یہ ادب کے خلاف اور غیر مناسب ہے اور دوسرے کے ساتھ حق تلفی ہے، ہاں اگر دوسرے حضرات بھی ایک ساتھ دو کھجور کھائیں یا اس کی اجازت دے دیں تو کوئی حرج نہیں۔
بعض علماء نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے کو حرام اور بعض نے مکروہ کہا ہے۔
(واللہ اعلم بالصواب)۔
الحكم: إسناده صحيح