بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس کا بیان کہ دو قسم کا کھانا کھانے میں کوئی حرج یا برائی نہیں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب اس کا بیان کہ دو قسم کا کھانا کھانے میں کوئی حرج یا برائی نہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2095 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ:"رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2102] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5440، 5449] ، [مسلم 2043] ، [أبوداؤد 3835] ، [ترمذي 1844] ، [ابن ماجه 3325] ، [أبويعلی 6798] ، [الحميدي 550] ، [الطيالسي 1669]
وضاحت
(تشریح حدیث 2094)
اس حدیث سے ایک ساتھ کئی قسم کا کھانا، ترکاری کھانے کا ثبوت ملا۔
ابن ماجہ (3324) کی روایت کا مفہوم ہے کہ ککڑی کھجور کے ساتھ بدن کو موٹا کرتی ہے اور مزیدار بھی ہوتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ککڑی ٹھنڈی اور کھجور گرم ہے اور ایک دوسرے کی مصلح، یعنی کھجور کی گرمی و شدت ککڑی اور کھیرے سے معتدل ہو جاتی ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح