بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس کا بیان کہ اپنا کھانا متقی پرہیزگار کے علاوہ کوئی نہ کھائے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب اس کا بیان کہ اپنا کھانا متقی پرہیزگار کے علاوہ کوئی نہ کھائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2094 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ ، سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ ، الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ ، أَبَا سَعِيدٍ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ: أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نہ صحبت میں رہ مگر مومن کی، اور نہ کھائے کھانا تیرا مگر متقی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الإسناده الأول صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2101] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4832] ، [ترمذي 2395] ، [أبويعلی 1315] ، [ابن حبان 554، 5255] ، [الموارد 2049]
وضاحت
(تشریح احادیث 2092 سے 2094)
خطابی نے کہا: اس حدیث سے مراد دعوت (ولیمہ وغیرہ) کا کھانا ہے ضرورت کا کھانا نہیں، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بدکاروں کی صحبت میں نہ رہو، نہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رکھو، ورنہ ان کی عادتیں تم پر اثر انداز ہوں گی، لہٰذا ان سے دور رہو اور متقی و پرہیزگار لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند
والله اعلم، اس معنی کی اور بھی متعدد احادیث کتبِ حدیث میں مروی ہیں۔
الحكم: الإسناده الأول صحيح