بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لہسن کھانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب لہسن کھانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2090 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي: الثُّومَ، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر میں فرمایا: جو شخص اس پودے (یعنی لہسن) کو کھا لے وہ ہماری مسجدوں میں بالکل نہ آئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2097] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 853] ، [مسلم 561] ، [أبوداؤد 3825] ، [ابن حبان 2088] ، [أبوعوانه 410/1] ، [ابن خزيمه 1661]
وضاحت
(تشریح حدیث 2089)
کچے لہسن اور پیاز میں جو بو ہوتی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سخت ناپسند تھی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کچا لہسن، پیاز کھا کر مسجد نہ جانا چاہیے، اسی طرح کسی بھی بدبودار چیز کو مسجد میں لے جانا یا اس کے کھانے یا پینے کے بعد مسجد میں جانا ممنوع ہے، وجہ صاف ظاہر ہے کہ لوگ اس کی بدبو سے تکلیف محسوس کریں گے، اور پھر مسجد ایک پاک اور مقدس جگہ ہے جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔
آج کل بیڑی، سگریٹ نوشی جو کہ حرام ہے اور اس کے بعد مسجد میں آنا اور بھی بری اور بڑی خلاف ورزی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو بھی اس بدبودار چیز سے تکلیف و اذیت ہوتی ہے جن سے انسان کو اذیت و پریشانی ہوتی ہے۔
ہاں پیاز لہسن پکا کر سالن میں ڈالنا اور کھانا جائز ہے جبکہ ابال یا پکا کر اس کی بدبو زائل کر دی جائے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2091 سنن دارمی
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، أُمَّ أَيُّوبَ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ شَيْءٌ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ، فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ بِهِ كَرِهَهُ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "كُلُوهُ، فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِذَا لَمْ يُؤْذِ أَحَدًا، فَلَا بَأْسَ بِأَكْلِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف فرما ہوئے تو ہم نے بڑے اہتمام سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانا بنایا جس میں کچھ سبزیاں تھیں (لہسن پیاز وغیرہ)، جب ہم نے وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پسند نہ فرمایا اور اپنے صحابہ سے فرمایا: تم لوگ کھا لو، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے خوف ہے کہ میرے ساتھی (جبریل یا کراما کاتبین) کو اذیت میں مبتلا کر دوں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: جب کسی کو تکلیف نہ ہو یعنی لہسن پیاز سے اذیت نہ پہنچے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ یعنی پکا ہوا کھانا جائز ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2098] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1811] ، [ابن ماجه 2364] ، [ابن خزيمه 1671] ، [مجمع الزوائد 2016-2026، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2090)
صحیحین میں اس سیاق کی اور بھی متعدد احادیث ہیں جن میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص لہسن، پیاز اور کراث (گندنا) کھائے وہ ہماری مسجدوں سے قریب نہ ہو، دور رہے۔
مقصد ان احادیث سے یہی ہے کہ ان چیزوں کو کچا کھانے سے منہ میں جو بدبو پیدا ہو جاتی ہے وہ دوسرے نمازیوں کے لئے تکلیف دہ ہے، لہٰذا ان چیزوں کے کھانے والوں کو چاہیے کہ جس طور پر ممکن ہو ان کی بدبو کا ازالہ کر کے مسجد میں آئیں۔
بیڑی، سگریٹ، حقہ، تمباکو وغیرہ کے لئے بھی یہی حکم ہے۔
(راز رحمہ اللہ)۔
الحكم: إسناده صحيح