بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زیتون کے تیل کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب زیتون کے تیل کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2089 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَطَاءٍ ، أَبِي أَسِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطَاءٍ وَلَيْسَ بِابْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُوا الزَّيْتَ فَإِنَّهُ مُبَارَكٌ، وَائْتَدِمُوا بِهِ، وَادَّهِنُوا بِهِ، فَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ، بیشک وہ بابرکت ہے، اور اس سے سالن بناؤ، اس کا تیل لگاؤ کیونکہ وہ برکت والے درخت سے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2096] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1852، 1853] ، [ابن ماجه 3319، 3320] ، [نسائي فى الكبرىٰ 6603] ، [أحمد 497/3] ، [طبراني 597] ، [الحاكم 397/2] ، [بغوي فى شرح السنة 2870]
وضاحت
(تشریح حدیث 2088)
اس حدیث میں زیت یعنی مطلق تیل کا ذکر ہے لیکن اس سے مراد زیت زیتون یا روغنِ زیتون ہے جس کا استعمال کھانے پینے اور سر و بدن میں لگانے کیلئے ہوتا ہے۔
زیتون کے تیل کے بڑے فوائد ہیں، اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے سورۂ نور میں کیا ہے کہ وہ برکت والے درخت سے ہے۔
دیکھئے: آیت نمبر 35۔
الحكم: إسناده حسن