بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لوکی اور کدو کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب لوکی اور کدو کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2087 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:"رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ يَأْكُلُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں (روٹی) شوربا پیش کیا گیا جس میں کدو اور بھنا ہوا گوشت تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، آپ کدو کے قتلے تلاش کر کے تناول فرما رہے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2094] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2092] ، [مسلم 2041] ، [أبوداؤد 3782] ، [ترمذي 1850] ، [ابن حبان 4539]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2088 سنن دارمی
الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ". قَالَ: فَقُدِّمَ إِلَيْهِ، فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُهُ وَأَجْعَلُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوکی پسند فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے وہ پیش کی گئی تو میں اٹھا اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھتا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2095] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک خیاط نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے روٹی و شوربہ پیش کیا جس میں کدو اور بھنا ہوا گوشت تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کناروں سے کدو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھا رہے ہیں، مجھے اسی دن سے کدو سے محبت ہوگئی۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2086 سے 2088)
لوکی اور کدو مشہور سبزیاں ہیں اور ان کی بڑی عمده ترکاری و سالن بنتا ہے، لمبا کدو سرد تر اور دافع تپ و خفقان ہے، اور دافع حرارت و خشکیٔ بدن ہے، قبض بواسیری کو دفع کرتا ہے، پیٹھے کی بھی یہی خاصیت ہے، گو کدو کھانا دین کا کام نہیں کہ اس کی محبت لازم ہو مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت اس کو مقتضی ہے کہ ہر مسلمان کدو سے رغبت رکھے جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا۔
(وحیدی)۔
اس حدیث میں خیاط درزی کا کھانا و دعوت قبول کرنا ثابت ہوا، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تواضع اور خاکساری کہ معمولی سبزی بھی بڑے چاؤ اور رغبت سے تناول فرما لی۔
بعض لوگوں کے لئے اس میں عبرت ہے جن کا دعوت میں گوشت مرغی کے بغیر نوالہ حلق سے نہیں اترتا۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح