بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس کا بیان کہ ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہوتا ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب اس کا بیان کہ ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہوتا ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2081 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي ثَمَانِيَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو آدمی کو کافی ہوتا ہے، اور دو آدمی کا کھانا چار آدمی کو کفایت کرتا ہے، اور چار کا آٹھ آدمیوں کو کافی ہوتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2087] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ مسلم 2059] ، [ابن ماجه 3254] ، [أبويعلی 1902] ، [ابن حبان 5237]
وضاحت
(تشریح حدیث 2080)
جس مومن کا ایمان کامل ہوتا ہے تو اس کی برکت ایسی ہوتی ہے کہ اس میں سے حرص و طمع بالکل نکل جاتی ہے اور دل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے، وہ لامحالہ کھانا کھاتا ہے اور کم خوری کو عمدہ سمجھتا ہے، اور کافر و فاسق اور بعض عوام مومنین کا جن کا نورِ ایمان پورا نہیں، ان کا یہ حال ہے کہ وہ ہر وقت پیٹ بھر کھانا ضروری سمجھتے ہیں، بلکہ ناکوں ناک کھانا کھاتے ہیں کہ عبادت اور شب بیداری کی بالکل طاقت نہیں رہتی۔
بعض نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر کے ساتھ شیطان بھی کھاتا ہے تو وہ زیادہ کھانا کھا جاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا، اور مسلمان اللہ کا نام لیکر کھاتا ہے شیطان اس کے ساتھ نہیں کھاتا تو کم کھانے میں سیر ہو جاتا ہے۔
(وحیدی)۔
الحكم: إسناده صحيح