بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2069 سنن دارمی
أَبُو عَلَّي الْحَنَفِيُّ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلَّي الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے اور پئے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور پئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2073] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2020/106] ، [أبوداؤد 3776] ، [ترمذي 1799] ، [ابن ماجه 3266] ، [أبويعلی 5568] ، [ابن حبان 5226] ، [الحميدي 648]
وضاحت
(تشریح حدیث 2068)
اس حدیث میں بائیں ہاتھ سے کھانا شیطان کی صفت بتایا گیا ہے، لہٰذا اس سے بچنا چاہیے، شیطان کے نقشِ قدم پر چلنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
جو لوگ میزوں پر بیٹھ کر غیروں کی تقلید میں بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں اور اسی کو تہذیب سمجھتے ہیں، وہ بھی شیطان ہی کے مقلد ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2070 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي بَكْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس سند سے بھی مذکور بالا مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2074] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2071 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسْرَ بْنَ رَاعِي الْعِيرِ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: "كُلْ بِيَمِينِكَ". قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:"لَا اسْتَطَعْتَ". قَالَ: فَمَا وَصَلَتْ يَمِينُهُ إِلَى فِيهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ایاس بن ابی سلمہ نے کہا: میرے والد نے مجھ سے حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بسر بن راعی العیر کو دیکھا کہ وہ بایاں ہاتھ سے کھا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دایاں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا: مجھ سے نہیں ہو سکتا، فرمایا: اللہ کرے تجھ سے نہ ہو سکے (یعنی داہنے ہاتھ سے اگر جھوٹے ہو تو کبھی نہ کھا سکو)، راوی نے کہا: پھر کبھی اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہ پہنچ سکا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2075] »
اس روایت کی سند حسن ہے لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2021] ، [ابن حبان 6512، 6513] ، [ابن ابي شيبه 4497]
وضاحت
(تشریح احادیث 2069 سے 2071)
یہ الله تعالیٰ کی طرف سے فرمانِ رسالت کو نہ ماننے کی فوری اور بھیانک سزا تھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ سنّت کی مخالفت کی بڑی سزا ہے جو الله تعالیٰ دنیا میں بھی نشانِ عبرت کے طور پر دے سکتا ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: یعنی جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیئے کہ فتنے میں نہ پڑ جائیں یا (آخرت میں) دردناک عذاب میں مبتلا ہو جائیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا دایاں ہاتھ سے کھانا چاہیے۔
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر کام دایاں ہاتھ سے کرتے تھے، کھانا، پینا، پہننا حتیٰ کہ بال سنوارنے اور جوتا پہننے میں بھی سیدھی جانب سے شروع کرتے تھے۔
سعودی عرب میں اسی لئے گاڑیاں اور ٹریفک سیدھی جانب ہوتی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو شخص سنّت کی مخالفت کرے اس کے لئے بد دعا کی جا سکتی ہے۔
مذکورہ بالا شخص بسر کہا جاتا ہے کہ منافق تھا اور غرور و گھمنڈ میں اس نے کہا کہ میں سیدھے ہاتھ سے نہیں کھا سکتا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تم سیدھے ہاتھ سے کھا بھی نہ سکو گے۔
یہ دعا بارگاہِ الٰہی میں فوراً شرفِ قبولیت حاصل کر گئی اور بسر کا داہنا ہاتھ ہمیشہ کے لئے شل ہو کر نشانِ عبرت بن گیا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو متبع سنّت بنائے اور سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت و عدم پیروی سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
الحكم: إسناده حسن