بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بے پر کے تیر یا لکڑی کے عرض سے شکار کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی شکار کے مسائل بے پر کے تیر یا لکڑی کے عرض سے شکار کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2048 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: "إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ، فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلَا تَأْكُلْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بےپر کے تیر یا لکڑی سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کی نوک سے شکار مر جائے تو اسے کھاؤ اور اگر اس کی عرض (چوڑائی) کی طرف سے شکار کو لگے اور وہ مر جائے تو وہ «وقيذ» (مردار) ہے اسے نہ کھاؤ۔ [سنن دارمي/من كتاب الصيد/حدیث: 2048]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2052] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5475] ، [مسلم 1929] ۔ نیز دیکھئے: حديث رقم (2042)
وضاحت
(تشریح حدیث 2047)
بخاری شریف میں ایک دوسری حدیث (5477) میں ہے کہ اگر (معراض) دهار اس (شکار) کو زخمی کر کے پھاڑ ڈالے تو کھاؤ لیکن اگر اس کے عرض سے شکار مارا جائے تو اس کو نہ کھاؤ، وہ مردار ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلہ بازی یعنی غلیل سے پھینکے ہوئے غلے سے اگر شکار مر گیا تو حلال نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے ثقل (بوجھ) سے جانور کو مارتا ہے چیرتا نہیں، اور بندوق کی گولی گوشت کو چیر پھاڑ کر اندر گھس جاتی ہے۔
(وحیدی)۔
الحكم: إسناده صحيح