بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جلّالہ کے بارے میں جو ممانعت آئی ہے اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں جلّالہ کے بارے میں جو ممانعت آئی ہے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2040 سنن دارمی
أَبُو زَيْدٍ: سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ: سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ، وَأَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجثمہ سے اور جلّالہ کے دودھ کو پینے سے اور مشک میں منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2044] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3719] ، [ترمذي 1825] ، [نسائي 4460] ، [ابن حبان 5399] ، [موارد الظمآن 1363]
وضاحت
(تشریح حدیث 2039)
مجثمہ کا معنی پیچھے گذر چکا ہے، جلالہ وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہو، چاہے بکری ہو گائے یا مرغی یا کوئی اور جانور، اس کا گوشت نجس ہونے کے سبب کھانا درست نہیں۔
بعض علماء نے کہا: کئی دن باندھ کر رکھیں اور نجاست نہ کھانے دیں تو گوشت پاک ہوتا ہے۔
مشک سے منہ لگا کر پانی پینے میں پھندا اور گٹا لگنے کا ڈر نیز پانی کے ساتھ کسی اور چیز کے پی جانے کا خوف ہے اس لئے اس سے منع کیا گیا۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح