بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
چھپکلی یا گرگٹ کو قتل کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں چھپکلی یا گرگٹ کو قتل کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2039 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أُمِّ شَرِيكٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھپکلی اور گرگٹ کو قتل کر ڈالنے کا حکم فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2043] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن دوسری سند سے حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3307] ، [مسلم 2237] ، [نسائي 2885] ، [ابن ماجه 3228] ، [ابن حبان 5634] ، [الحميدي 353]
وضاحت
(تشریح حدیث 2038)
ہر چند کہ یہ جانور کسی کو کاٹتے نہیں نہ ایذا دیتے ہیں لیکن ان سے دل کو نفرت پیدا ہوتی ہے، بعض نے کہا ان میں سمیت زہریلا پن ہوتا ہے، بعض نے کہا وہ عرب کے ملک میں اونٹنی کا تھن پکڑ کر دودھ چوس لیتا ہے۔
بخاری شریف (2359) میں ہے: گرگٹ نے ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر پھونکا تھا، یعنی اس نے آگ بھڑکانے کی کوشش کی تھی، مولانا داؤد راز رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ ایک زہریلا جانور ہے جو ہر آن اپنے رنگ بھی بدلتا رہتا ہے، جسے مارنے کا حکم حدیث شریف میں ہے اور اسے مارنے پر ثواب بھی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف