بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مینڈک اور شہد کی مکھی وغیرہ کو مارنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں مینڈک اور شہد کی مکھی وغیرہ کو مارنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2037 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ قَتْلِ الضِّفْدَعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن عثان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مینڈکوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2037]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2041] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3871] ، [نسائي 4366] ، [أحمد 499/5] ، [ابن قانع: معجم الصحابة، ترجمة 636] ، [الحاكم 411/4]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2038 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعَةٍ مِنْ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةِ، وَالنَّحْلَةِ، وَالْهُدْهُدِ، وَالصُّرَدِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار جانوروں: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُدہُد اور چھوٹی چڑیا کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2042] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 5267] ، [ابن ماجه 3224] ، [أحمد 332/1] ، [ابن حبان 5646] ، [الموارد 1078]
وضاحت
(تشریح احادیث 2035 سے 2038)
صرد ایسا پرندہ ہے جس کا سر اور چونچ بڑی ہوتی ہے، آدھا کالا آدھا سفید ہوتا ہے اور بڑے پر ہوتے ہیں۔
مذکورہ بالا چاروں قسم کے جانور انسانی زندگی کے لئے کچھ زیادہ مضر نہیں ہیں بلکہ ان سے کچھ نہ کچھ فائدے ہیں، اس لئے ان کے مارنے اور قتل کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا، مثلاً شہد کی مکھی شہد بناتی ہے جو بہت ہی فائدہ مند چیز ہے، چیونٹی گھر میں گرا پڑا اناج روٹی چاول اٹھا کر لے جاتی ہے اور سڑاند و بساند وکثافت دور ہوتی ہے۔
ہدہد میں گوشت بھی کم ہوتا ہے اور بے ذائقہ بھی، اسی طرح کا پرندہ صرد ہے، ان کے مارنے سے کوئی فائدہ نہیں، دوسرے یہ تمام جانور اور ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے تو اس تسبیح سے روکا نہ جائے۔
«﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ﴾ [النور: 41] » اور اسی طرح [سورة الحج: 18] میں مذکور ہے۔
الحكم: إسناده صحيح