بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
پیٹ کے بچے کی ذکاۃ اس کی ماں کی زکاۃ ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں پیٹ کے بچے کی ذکاۃ اس کی ماں کی زکاۃ ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2018 سنن دارمی
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: يُؤْكَلُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پیٹ کے بچے کا ذبح کرنا وہی ہے جو اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے، امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا وہ بھی کھایا جا سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 2022] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2828] ، [أبويعلی 1808] ، [مجمع الزوائد 6124، وله شاهد عند أبى يعلی 992] ، [ابن حبان 5889] ، [موارد الظمآن 1077]
وضاحت
(تشریح حدیث 2017)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو بکری ذبح کی جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ نکل آئے تو اس بچے کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں، اس کو ویسے ہی بنا ذبح کئے ہوئے کھایا جا سکتا ہے۔
اکثر علماء کا یہ ہی مذہب ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زندہ نکلے تو ذبح کر کے کھائے اور مردہ ہو تو نہ کھائے۔