بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب چوپایہ بھاگ کھڑا ہو تو کیا کیا جائے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں جب چوپایہ بھاگ کھڑا ہو تو کیا کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2016 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، أَبِيهِ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ابْنِ رَافِعٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ابْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: أَنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا، فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹ بھڑک کر بھاگ گیا اور اس وقت لوگوں کے پاس چند گھوڑے تھے، چنانچہ ایک صحابی نے اس اونٹ پر تیر چلا کر اسے (بھاگنے سے) روک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان چوپایوں (جانوروں) میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح سرکشی ہوتی ہے، لہٰذا ان جانوروں میں سے کوئی تمہیں عاجز کر دے تو تم اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2016]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2020] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2488] ، [مسلم 1968] ، [أبوداؤد 2921] ، [ترمذي 1492] ، [نسائي 4308] ، [ابن ماجه 3183] ، [ابن حبان 5886] ، [الحميدي 414]
وضاحت
(تشریح حدیث 2015)
یعنی کوئی چوپایہ بھڑک کر بھاگے تو اس کو تیر، برچھی، گولی وغیرہ سے بسم اللہ کہہ کر مار دو وہ حلال ہوگا۔
یہ ذکاة اضطراری ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے جب کہ ذبح کرنے پر قدرت نہ ہو تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔
(وحیدی بتصرف)۔
الحكم: إسناده صحيح