بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ایسا گوشت ملے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا نہیں؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں ایسا گوشت ملے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا نہیں؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2015 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ قَوْمًا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا؟ فَقَالَ: "سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا" وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس کچھ لوگ گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ اس پر (ذبح کرتے وقت) الله کا نام لیا تھا یا نہیں، فرمایا: تم الله کا نام لو (بسم اللہ) کہو اور کھا لو، اور یہ زمانہ جاہلیت سے قریب کا واقعہ تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2015]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2019] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2057، 5507] ، [أبوداؤد 2829] ، [نسائي 4448] ، [ابن ماجه 3174] ، [أبويعلی 4447]
وضاحت
(تشریح حدیث 2014)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں سے گوشت لے لینا درست ہے گرچہ یہ نہ معلوم ہو کہ ذبح کے وقت اس نے اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں، کیونکہ مسلمان کا ظاہر حال امید دلاتا ہے کہ اس نے اللہ کا نام ضرور لیا ہوگا، البتہ مشرک سے گوشت لینا درست نہیں جب تک کہ آنکھ سے دیکھ نہ لیوے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے۔
(وحیدی)۔
اہلِ کتاب کا ذبیحہ درست ہے بشرطیکہ جھٹکے کا نہ ہو، آج کل کے اہلِ کتاب کھلے ہوئے مشرک ہیں، لہٰذا احتیاط اچھی ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح