بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حیوان کے مثلہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں حیوان کے مثلہ کرنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2012 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا غِلْمَةٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ فَتَفَرَّقُوا. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَعَنَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینے کے راستوں میں سے ایک راستے سے گزر رہا تھا، اچانک کچھ لڑکوں کو دیکھا کہ وہ (ایک مرغی کو باندھ کر اس کا) نشانہ لگا رہے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کس نے ایسا کیا ہے؟ وہ سب ادھر ادھر بھاگ گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حیوان کا مثلہ کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2012]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2016] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5515] ، [مسلم 1958] ، [نسائي 4453] ، [أبويعلی 5652] ، [ابن حبان 5617]
وضاحت
(تشریح حدیث 2011)
یعنی کسی بھی حیوان کو باندھ دیا جائے پھر اس کا تیر یا گولی سے نشانہ لگایا جائے، اور یہ ترسا ترسا کر مارنا، ایک ایک جزء اور گوشت کا کاٹنا یا مثلہ کرنا ہے، جس کی اسلام نے سخت مذمت کی ہے اور ایسا کرنے والے پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2013 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَبِيهِ ، عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى ، أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ". قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةً مَا صَبَرْتُهَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ جانور مرغی ہی کیوں نہ ہو میں اسے باندھ کر نہیں ماروں گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2013]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2017] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2687] ، [أبويعلی 2497، 6790] ، [ابن حبان 5609] ، [الموارد 1072]
وضاحت
(تشریح حدیث 2012)
سبحان اللہ! قربان جائیں اسلام کے نظامِ عدل و رحمت پر کہ ایک معمولی جانور کو بھی ایذاء دے کر مارنے کی ممانعت کر دی گئی اور اس کے خلاف عمل کرنے والے اسلام میں ملعون ہیں۔
یعنی رحمتِ باری تعالیٰ سے دور بھگا دیئے جاتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے۔
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2014 سنن دارمی
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ". فَقَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْمُجَثَّمَةُ: الْمَصْبُورَةُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجثمہ سے منع فرمایا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: مجثمہ مصبورہ کو کہتے ہیں یعنی بندھے ہوئے جانور کو تیر یا گولی یا پتھر سے مارنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2014]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2018] »
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5515] ، [مسلم 1957] ، [أبوداؤد 3719] ، [ترمذي 1825] ، [نسائي 4460] ، [أبويعلی 2497] ، [ابن حبان 5608]
وضاحت
(تشریح حدیث 2013)
ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی بھی جانور کو عبث مارنا، اس کی جان سے کھیلنا، ترسا ترسا کر مارنا بہت ہی قبیح فعل ہے، اور اسلام میں اس کی سخت ممانعت ہے۔
پھر ایسا جانور جس کو باندھ کر مارا گیا ہو، گناہ بھی ہے اور حلال بھی نہیں۔
یہ اسلام کا پاکیزہ نظامِ رحمت ہے جس میں جانوروں پر بھی رحمت کی تعلیم ہے۔
کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر
الحكم: إسناده صحيح