بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قربانی اچھی طرح سے ذبح کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں قربانی اچھی طرح سے ذبح کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2009 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ: قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءِ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ، فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو چیزیں حفظ کیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (یعنی رحم و انصاف) کو فرض کیا ہے، سو تم (قصاص یا جہاد میں) جب قتل کرو تو جلدی فراغت کرو (ترسا ترسا کر نہ مارو) اور دوسرے جب کسی جانور کو ذبح کرو تو ٹھیک سے ذبح کرو اور تم میں سے ہر کوئی اپنی چھری کو تیز کر لے اور پھر اپنے ذبیحہ کو (جلد ذبح کر کے) راحت پہنچائے، اذیت میں مبتلا نہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2009]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2013] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1955] ، [أبوداؤد 2815] ، [ترمذي 1409] ، [نسائي 4417] ، [ابن ماجه 3170] ، [ابن حبان 5883]
وضاحت
(تشریح حدیث 2008)
ذبیحہ کو آرام پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد ٹھنڈا ہونے دے، اور بھونٹی بے دھار چھری سے ذبح کر کے اذیت میں مبتلا نہ کرے، اور یہ اسلام کا نظامِ رحمت ہے کہ ہر کام میں خوش اسلوبی اور عدم اذیت کی تعلیم ہے، حتیٰ کہ جانوروں کے ذبح کرنے میں بھی اس عظیم قاعدے کو بروئے کار لایا جائے اور جانور کو تڑپا تڑپا کر نہ مارا جائے۔
الحكم: إسناده صحيح