بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قربانی کرنا واجب نہیں ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں قربانی کرنا واجب نہیں ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1986 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، خَالِدٌ يَعْنِي: ابْنَ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي: ابْنَ أَبِي هِلَالٍ ، عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ يَعْنِي: ابْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي: ابْنَ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: "مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ، وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمۃ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو وہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں نہ اپنے ناخون کاٹے نہ بال منڈوائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1990] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1977] ، [أبوداؤد 2791] ، [ترمذي 1523] ، [نسائي 4373] ، [ابن ماجه 3149، 3150] ، [أبويعلی 6910] ، [ابن حبان 5897] ، [الحميدي 295]
الحكم: إسناده ضعيف لكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 1987 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا أَظْفَارِهِ شَيْئًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوا، اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو وہ اپنے بال نہ کاٹے اور نہ ناخون کاٹے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1987]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1991] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1985 سے 1987)
ان احادیثِ صحیحہ کے الفاظ «مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ» سے یہ مسألہ نکلا کہ جو قربانی نہ کرنا چاہے اس پر کوئی پابندی اور گناہ نہیں، غالباً امام دارمی رحمہ اللہ کا یہی مقصود باب اور احادیث الباب سے ہے۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کرنی ہو تو صاحبِ قربانی ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کرنے تک نہ بال کاٹے اور نہ ناخن کاٹے، اور یہ حکم استحباباً ہے، بعض فقہائے کرام کے نزدیک قربانی کرنے والے پر بال و ناخن کاٹنا حرام ہے۔
پہلا حکم زیادہ صحیح ہے اور مذکور بالا احادیث میں نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، نیز یہ کہ حکم صاحبِ قربانی کے لئے ہے اہل و عیال پر یہ پابندی ضروری نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح