بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قربانی کرنے کا سنت طریقہ
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں قربانی کرنے کا سنت طریقہ
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1984 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: "ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ"، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو سرمگیں، سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذبح کرتے وقت بسم الله و الله اکبر کہتے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ان کے پٹھ پر اپنا پیر رکھ کر ذبح کرتے ہوئے دیکھا۔ راوی نے کہا: میں نے دریافت کیا کہ تم نے ان سے سنا تھا؟ کہا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1984]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1988] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1551، 5565] ، [مسلم 1966] ، [أبوداؤد 2793] ، [ترمذي 1494] ، [نسائي 4399] ، [ابن ماجه 3120] ، [أبويعلی 2806] ، [ابن حبان 5900]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1985 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي عَيَّاشٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ، فَقَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا:"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ. إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ"، ثُمَّ سَمَّى اللَّهَ وَكَبَّرَ وَذَبَحَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلہ کی طرف کیا تو یہ آیت پڑھی: «إِنِّيْ وَجَّهْتُ ...... الْمُسْلِمِيْنَ» میں نے اپنا منہ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، اور میں سیدھا مسلمان ہوں، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت سب اللہ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہانوں کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اس کا حکم ہوا اور میں سب سے پہلے اس کے تابعداروں میں سے ہوں۔ پھر یہ دعا پڑھی: «اَللّٰهُمَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهٖ» یعنی: اے الله یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے (تو نے ہی مجھے عطا کی) اور صرف تیرے لئے ہے محمد اور اس کی امت کی طرف سے۔ پھر «بسم الله الله اكبر» کہا اور ذبح کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 1989] »
اس روایت کی سند تو ضعیف ہے لیکن اس کے شواہد صحیحہ موجود ہیں۔ دیکھئے: [مسلم 1977] ، [أبوداؤد 2795] ، [ترمذي 1521،] [ابن ماجه 3121] ، [أبويعلی 1792] ، [مجمع الزوائد 6047]
وضاحت
(تشریح احادیث 1983 سے 1985)
قربانی کرنا سنّت ہے اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، خلوصِ وللّٰہیت سے کی جائے تو خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، اس کے لئے صاحبِ نصاب ہونا ضروری نہیں، استطاعت ہو تو قربانی کرے نہیں ہے تو ادھار لے کر قربانی کرنا درست نہیں، قربانی بکرا، مینڈھا، گائے اور اونٹ کی ہو سکتی ہے، ایک بکرا یا ایک مینڈھا ایک فیملی کی طرف سے کافی ہے، گائے اور اونٹ میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
مذکورہ بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مینڈھے کی قربانی ثابت ہے، گرچہ ایک مینڈھا کافی تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک قربانی اپنی اور امّت کی طرف سے کی اور ایک اہل و عیال کی طرف سے، قربانی کرتے وقت مینڈھے کو قبلہ رو لٹایا، اس پر پیر رکھا، اور مذکورہ بالا آیت و دعا پڑھی اور پھر دست ڈالا قربانی کا، یہی طریقہ ہے، اسی طرح قربانی کرنا سنّت ہے، اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے، (آمین)۔
قربانی کے دیگر مسائل آگے آرہے ہیں۔
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده