بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی شخص بیماری کی وجہ سے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزار سکتا ہے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں کوئی شخص بیماری کی وجہ سے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزار سکتا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1982 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ الْعَّبَاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ. فَأَذِنَ لَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ حجاج کرام کو پانی پلانے کی خاطر منیٰ کی راتیں مکہ میں گزار سکتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1982]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1986] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1634] ، [مسلم 1315] ، [أبوداؤد 1959] ، [ابن ماجه 3065] ، [ابن حبان 3889] ، [معرفة السنن والآثار 10247] ، [مسند الشافعي 373]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1983 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی مذکورہ بالا روایت کے مانند مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1987] »
تخریج وترجمہ اوپر مذکور ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1981 سے 1983)
جمہور علمائے کرام کے نزدیک 10، 11، 12 ذوالحجہ کی راتیں حاجی کو منیٰ میں گزارنا واجب ہے لیکن مرض اور عذرِ شرعی کی بنا پر مکہ میں رات گذاری جا سکتی ہے، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ حاجیوں کو زمزم کا پانی نکال کر پلایا کرتے تھے، اس علت و سبب کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے عم محترم کو اجازت دی کہ وہ ان راتوں کو مکہ میں گزار سکتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح