بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مکہ میں کس راستے سے داخل ہوں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں مکہ میں کس راستے سے داخل ہوں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1966 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا (یعنی مقامِ کدا) کی طرف سے داخل ہوتے تھے (جو بطحاء میں ہے) اور ثنیہ سفلیٰ کی طرف سے مکہ سے خارج (واپس) ہوتے تھے (یعنی نیچے والی گھاٹی کی طرف سے)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1970] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1577] ، [مسلم 1257] ، [أبوداؤد 1866] ، [نسائي 2865]
وضاحت
(تشریح حدیث 1965)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک راستے سے مکہ جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس ہوتے جیسا کہ عید کی نماز کے لئے کرتے تھے، لہٰذا ایک راستے سے آنا دوسرے سے واپس جانا مستحب ہوا۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح